کوئی محبوبہ خفا ہو جائے
Poet: N A D E E M M U R A D By: N A D E E M M U R A D , UMTATA RSAعشق گر تجھ کو نہیں ڈر کیا
یہ بھٹکنا ترا در در کیا ہے
موت بچوں کا کوئی کھیل بنی
زندگی، تجھ سے بچھڑ کر کیا ہے
چند چیزیں جو ڈسا کرتی ہیں
اور اس تن کو میّسر کیا ہے
زندگی موت سے بڑھ کر کیوں ہو
زندگی موت سے بہتر کیا ہے
دل ہو تنہا تو بلا سے دل کی
چاہے میلا ہو یا مہشر کیا ہے
بیقراری نہیں گر دل میں کوئی
جھیل میں پھینکنا پتھر کیا ہے
عاشقی نام ہے دربدری کا
ہوگیا کوئی جو بے گھر کیا ہے
اب کوئی صدمہ نہ پہنچے دل کو
تو نہیں ساتھ تو مہشر کیا ہے
کوئی نازک سا بدن کیا چھوتے
دیکھنے ہی کو میّسر کیا ہے
کوئی محبوبہ خفا ہو جائے
اور اشعار کا جوہر کیا ہے
ایک دن سب نے فنا ہونا ہے
یہ زمیں کیا ہے یہ امبر کیا ہے
ماہ و سال آتے ہیں کٹ جاتے ہیں
تجربہ ہی نہ ہوا گھر کیا ہے
ہے اگر وقت تو پھر سر پہ ندیم
برف گرنے کا یہ منظر کیا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






