کٹے گا زندگی کا یہ سفر آہستہ آہستہ
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاکٹے گا زندگی کا یہ سفر آہستہ آہستہ
مگر آئے گا جینے کا ہنر آہستہ آہستہ
ابھی تو صرف سارے عیب آتے ہیں نظر انکو
ہمارا پیار آئے گا نظر آہستہ آہستہ
کسی چہرے نے ہمکو اس قدر پاگل بنایا ہے
لٹا بیٹھے ہیں ہم جانو جگر آہستہ آہستہ
ابھی دنیا کی باتوں سے ذرا فرصت نہیں انکو
ہماری بات کا ہوگا اثر آہستہ آہستہ
بھلے رستے ہوئے ہیں آجکل کچھ مختلف اپنے
بنا لے گے تمیں ہم ہمسفر آہستہ آہستہ
تمہارے واسطے کیا کیا نہیں ہم نے کیا وشمہ
تمیں ہو جاۓگی اسکی خبر آہستہ آہستہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






