کوئی رشتہ نہ رفاقت نہ شناسا کوئی
Poet: ڈاکٹر آفتاب رانجھا By: ڈاکٹر آفتاب رانجھا, Lahoreکوئی رشتہ، نہ رفاقت، نہ شناسا کوئی
اس بھرے شہر میں ہم سا نہیں تنہا کوئی
حسرت و یاس کا طوفان چھپا کر دل میں
چپکے چپکے سے بسا بیٹھے ہیں صحرا کوئی
وہ جو کرتے ہیں بڑی سادہ سی دلکی باتیں
پیار ہی پیار میں دے جاتے ہیں دھوکہ کوئی
ہم غضب کر گئے اظہار محبت کر کے
وہ لگا بیٹھے سرعام تماشا کوئی
ہم بھی کترا کے نکل جاتے ہیں دامن اپنا
وہ بھی کرتے نہیں اور تقاضا کوئی
جس طرح نکلے ہو تم کوئے بتاں سے 'برہم'
اے خدا اور نہ ہو شہر میں رسوا کوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






