کچھ بھی نہیں ہے پاس ہماری مثال دے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاکچھ بھی نہیں ہے پاس ہماری مثال دے
اس شہر بے چراغ میں اک یہ وبال دے
ہاتھوں میں میرے چاند ستارے نہیں تو کیا
دل میں ترے یقین کا روشن کمال دے
رستے کی مشکلوں سے ہراساں ہے کس لیے
جس کا نہیں ہے کوئی بھی اسکی وصال دے
کس سے چھپا رہا ہے تو دل کی کہانیاں
وہ حال روز و شب سے مرے یہ نکال دے
وقت اور مقام سے نہ کبھی ہم گزر سکے
گزرے مقام و وقت کا کوئی سا سال دے
کتنے ہی پیڑ خوف خزاں سے اجڑ گئے
کچھ برگ سبز وقت سے پہلے ہی ٹال دے
وشمہ کسی سے لاکھ بہانے کرے مگر
لیکن بچھڑ کے تجھ سے بھی وہ ملال دے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






