کچھ تو ایسے بھی گھر ہوئے آباد
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالکچھ تو ایسے بھی گھر ہوئے آباد
جن میں بس طاق ہو سکے آباد
شہر کے شہر خُود میں تھے ویران
اور ویران دشت تھے آباد
مجھ سے کانٹے کو چھوڑ کر باقی
باغ کے سارے پھول تھے آباد
گھر تو آباد کر دیا لیکن
دل کے گھر میں نہ ہو سکے آباد
کبھی اُن راستوں کا سوچا جو
تیرے جانے سے نہ رہے آباد
گھر وہ ہم سے نہ ہو سکا تعمیر
جس کی بنیاد رکھ گئے آباد
چپ رہے غم سے چیخ بھی نہ سکے
خُون تھوکے وہ لب رہے آباد
کے زمانے ہوئے جنید اجڑے
کتنے کھنڈر بھی ہو چکے آباد
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






