کچھ تو محبتوں کو سیاست سے دور رکھ
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاکچھ تو محبتوں کو سیاست سے دور رکھ
شاداب بارشوں میں وضاحت سے دور رکھ
دنیا ہے مال و زر کی محبت میں مبتلا
برعکس اس کے پیار کی حاجت سے دور رکھ
بے وجہ ساری رات وہ سڑکوں پہ گھومنا
اک دور تھا عجیب سی وحشت سے دور رکھ
آتا ہے یاد آج بھی شدت سے رات بھر
کب اس کو بھول جائے عبادت سے دور رکھ
فکر معاش فن کو مرے چاٹتی رہی
روٹی کی عمر بھر تو ضرورت سے دور رکھ
میرے خلوص کا کبھی تجھ سے ملے صلہ
ناداں ہوں آج تک یہی حسرت سے دور رکھ
رشتوں کو ٹوٹنے سے بچاتی رہی سدا
اس بات کوہمیشہ سیاست سے دور رکھ
شاید کہ روز حشر مرا کم حساب ہو
انساں سے پیار وشمہ شرارت سے دور رکھ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






