کچھ خواب ادھورے ہیں
Poet: SHABEEB HASHMI By: SHABEEB HASHMI, Al-Khobar (KSA)پانی پے قدم رکھ دینا کہ کچھ خواب ادھورے ہیں
آنکھوں کو سلا دینا کہ کچھ خواب ادھورے ہیں
بیتے ھوئے لمحوں کو کچھ کہہ کے بلا لینا
اور ان کو بتا دینا کہ کچھ خواب ادھورے ہیں
پھر یادوں کے پیرھن کو یوں جسم پہ سجا لینا
اور چراغوں کو بجھا دینا کہ کچھ خواب ادھورے ہیں
پھر شام کی لالی میں چھپے غم کے سمندر کو
ذرا ساحل پے بلا لینا کہ کچھ خواب ادھورے ہیں
سلگتے ھوئے ارمانوں میں پھر آگ بھڑکتی ھے
راکھ اشکوں میں بہا دینا کہ کچھ خواب ادھورے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






