کچھ فرصتِ خیالِ نگارِ وطن بھی ہو
Poet: Anwar Kazimi By: Anwar Kazimi, mississauga, Canada کچھ فرصتِ خیالِ نگارِ وطن بھی ہو
ہیں باغباں تو آ پ کو فکرِ چمن بھی ہو
رکھیئے اُسی سے انجمن آ رائی کی اُمید
جو شخص اپنی ذات میں خود انجمن بھی ہو
مشروط تیرے حسنُ سے ہے میری شاعری
یعنی پسِ خیال ترِا بانکپن بھی ہو
سیدھی سی بات ہے اے مرِے بھولے بادشاہ
ہو عاشقی تو ساتھ میں دیوانہ پنَ بھی ہو
ویسے تو وہ بھی دیر سے خاموش تھا ، مگر
لازم نہیں وہ آپ سا خالی ذہن بھی ہو
دھڑکا رہے نہ وقت کے قدموں کی چاپ کا
انسان اپنی ذات میں اتنا مگنَ بھی ہو
الزامِ بے وفائی بھلا اور اُسکی ذات
مشکل ہے جسکی شکل پہ اک بھولا پن بھی ہو
گر یو ں ہے زخم زخم ترِی چاہتوں کا تن
مثلِ گلاب ، خون ترِا پیرہن بھی ہو
اے وقت مسکرا کے ذرا پاس سے گزر
لازم نہیں کہ ماتھے پہ تیرے شکن بھی ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






