کچھ ناں کہو بس میری سنو -پارٹ ون
Poet: Shabeeb Hashmi By: Shabeeb Hashmi, Al-Khobarکچھ ناں کہو
بس میری سنو
آنکھوں سے کہو خاموش رہیں
ہونٹوں پہ کوئی بات ناں ھو
دھڑکن کی بھی آواز ناں ھو
بس میرے چہرے کو دیکھو
میری آنکھوں سے بولو
لفظوں کو میرے محسوس کرو
دھڑکن کی میری بات سنو
تم کچھ ناں کہو
بس میری سنو
رفتار وقت کی روک سکو
ہر موسم ہاتھ پے روک سکو
سرگوشی ہوا کی ٹوک سکو
موسیقی جھرنوں کی آواز ناں دے
سانسوں کو کوئی ساز ناں دے
پائل کی چھن چھن راگ ناں دے
ان سب کو آج خاموش کرو
بس کچھ ناں کہو
تم میری سنو
تم میری سنو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






