سمندر کیا کریں گے قطرہ شبنم چرا لائیں
Poet: Yaseen Shahi By: Yaseen Shahi, Islamabadسمندر کیا کریں گے قطرہ شبنم چرا لائیں
جو ممکن ھو تو زخم ہجر کا مرھم چرا لائیں
تمہارا ساتھ ہے تو ایک بس اپنا ہی جیون کیوں
جہاں والوں کی ساری عمر آؤ ہم چرا لائیں
بہاروں کے چلے جانے خزاں آنے کا ڈر نہ ھو
کوئی ایسا محبّت کا نیا موسم چرا لائیں
خبر ھو نیند کی پریوں نہ ہی خوابوں کی دیوی کو
تمھیں پلکوں کی ڈولی میں بٹھا کر ھم چرا لائیں
ھمیں جذبات کے صحرا کو بھی سیراب کرنا ھے
کسی ٹوٹے ھوئے انساں کی چشم نم چرا لائیں
سدا کی مسکراہٹ ان کےہونٹوں پہ سجانے کو
چلو شاہی ذرا چپکے سے ان کےغم چرا لائیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






