کہاں پہ لے کے آگئی چلا رہے ہیں صبح و شام
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاکہاں پہ لے کے آگئی چلا رہے ہیں صبح و شام
جدائیوں کے زخم وہ اٹھا رہے ہیں صبح و شام
وہی اداس روز و شب، وہی فسوں، وہی ہوا
امید وصل اشک ہی بہا رہے ہیں صبح و شام
وہ چھوٹی چھوٹی رنجشوں کا لطف بھی چلا گیا
تلاش میں جو سحرکی سدارہے ہیں صبح و شام
جدائیوں کے زخم دردِ زندگی نے بھر دیئے
مِلا نہیں تو کیا ہوا دکھا رہے ہیں صبح و شام
یہ کس خوشی کے موقعے پر غموں کی نیند آ گئی
خوشی کا چاند شام کو جلارہے ہیں صبح و شام
ترے وصال کا زمانہ یاد آ یا بارہا
مخل ہوئے نہ آکے تم سنا رہے ہیں صبح و شام
یہ کس خوشی کے موقعے پر غموں کی نیند آ گئی
خوشی کا چاند شام ہی دکھا رہے ہیں صبح و شام
ذرا سی دیر میں محبتیں سبھی بدل گئیں
کبھی نہ اپنے آپ کی وشم رہے ہیں صبح و شام
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL







