کہہ کر زباں سے اللہُ اکبر نکل پڑے
Poet: By: وشمہ خان وشمہ, Karachi جب دشمنوں کے چار سو لشکر نکل پڑے
ہم بھی کفن کو باندھ کے سر پر نکل پڑے
اب جیت ہو ہماری کہ چاہیں شکست ہو
کہہ کر زباں سے اللہُ اکبر نکل پڑے
جن دوستوں پہ ناز تھا ہم کو بہت میاں
ان کی ہی آستین میں خنجر نکل پڑے
باہر کے دشمنوں سے تو محفوظ تھے مگر
دشمن ہمارے گھر کے ہی اندر نکل پڑے
سحرا میں ڈھونڈتے ہیں دعاؤں کے واسطے
شاید کوئی فقیر قلندر نکل پڑے
اس قوم کا وجود نہیں کچھ جہان میں
غدار جس میں قوم کا رہبر نکل پڑے
وشمہ تمہاری یاد میں رو دے تو آج بھی
آنکھوں سے آنسوؤں کا سمندر نکل پڑے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






