کہیں زمیں پر کوئی اک ایسا رواج ہونا تو چاہیے تھا
Poet: شاؔہد اقبال By: شاہد اقبال, Khanewalکہیں زمیں پر کوئی اک ایسا رواج ہونا تو چاہیے تھا
خموش لوگوں کا بھی الگ اک سماج ہونا تو چاہیے تھا
مجھے مسیحا کی بےبسی نے رُلا دیا تھا بوقتِ آخر
مریضِ عشق و وفا کا بھی کچھ علاج ہونا تو چاہیے تھا
ہمارے آنسو کچھ اس لیے بھی ہمارے دل پر ہی گِر رہے ہیں
کہ زخمِ دل ہے ، نمک سے اس کا مساج ہونا تو چاہیے تھا
وطن میں ہر سُو دروغ گوئی کی حکمرانی ہوئی ہے شاؔہد
سو حق کی خاطر ہمارے سر کا خراج ہونا تو چاہیے تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






