کیوں رنجشیں اب اور بڑھانے کے لیے جاؤں
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, جھنگکیوں رنجشیں اب اور بڑھانے کے لیے جاؤں
کیوں پھر سے میں رسوائی اٹھانے کے لیے جاؤں
رکّھا نہ ذرا جس نے بھرم میری وفا کا
اے دل میں اسے کیسے منانے کے لیے جاؤں
جب توڑ دیئے اس نے وہ جذبات کے رشتے
پھر کیسے مراسم میں نبھانے کے لیے جاؤں
دنیا کے دکھانے کو بلا بھیجا ہے اس نے
حد ہے کہ میں اب صرف زمانے کے لیے جاؤں
تنہائی میں اب روئے وہ دیواروں سے لگ کر
کیوں سینے لگا کر میں رلانے کے لیے جاؤں
جس شخص نے رکّھا مجھے اَنْدھیروں میں ہر دم
کیوں اس کے لیے شمعیں جلانے کے لیے جاؤں
لکّھے تھے کبھی میں نے جو پیڑوں کے تنوں پر
اب نام وہ سارے ہی مٹانے کے لیے جاؤں
بِھجوائے جو نذرانے دغاباز نے مجھ کو
کس گور میں اب ان کو دبانے کے لیے جاؤں
جس شہر میں اجڑا مرا بستا ہوا سنسار
اس شہر کو میں آگ لگانے کے لیے جاؤں ؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






