کیوں رنجشیں اب اور بڑھانے کے لیے جاؤں

Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, جھنگ

کیوں رنجشیں اب اور بڑھانے کے لیے جاؤں
کیوں پھر سے میں رسوائی اٹھانے کے لیے جاؤں

رکّھا نہ ذرا جس نے بھرم میری وفا کا
اے دل میں اسے کیسے منانے کے لیے جاؤں

جب توڑ دیئے اس نے وہ جذبات کے رشتے
پھر کیسے مراسم میں نبھانے کے لیے جاؤں

دنیا کے دکھانے کو بلا بھیجا ہے اس نے
حد ہے کہ میں اب صرف زمانے کے لیے جاؤں

تنہائی میں اب روئے وہ دیواروں سے لگ کر
کیوں سینے لگا کر میں رلانے کے لیے جاؤں

جس شخص نے رکّھا مجھے اَنْدھیروں میں ہر دم
کیوں اس کے لیے شمعیں جلانے کے لیے جاؤں

لکّھے تھے کبھی میں نے جو پیڑوں کے تنوں پر
اب نام وہ سارے ہی مٹانے کے لیے جاؤں

بِھجوائے جو نذرانے دغاباز نے مجھ کو
کس گور میں اب ان کو دبانے کے لیے جاؤں

جس شہر میں اجڑا مرا بستا ہوا سنسار
اس شہر کو میں آگ لگانے کے لیے جاؤں ؟

Rate it:
Views: 251
12 Jun, 2024
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL