کہ تجھے اس سے محبت ہے
Poet: Ayesh khan By: Ayesh Khan, karachiمیرے ہمدم میرے دوست
یہ التجا ہے میری تجھ سے
چاہے تو جب کسی کو جاناں
چاہ کر اس پہ کبھی نہ جتلانا
کہ تجھے اس سے محبت ہے
عائش وہ تجھ بن ادھورا ہے
بن اس کے تو جی لینا
دکھ اس کو کبھی نہ دینا
نہ چاہنا
وہ غمگین کبھی ہو
دکھ اس کے قریب کبھی ہو
وہ روئے ایسا نصیب کبھی ہو
چاہ کر اس پہ کبھی نہ جتلانا
کہ محبت نام ہے دینے کا
پا کر اسکو کھونے کا
دور رہ کر جینے کا
تو چاہے جب بھی کسی کو جاناں
چاہ کر اس پہ کبھی نہ جتلانا
کہ تجھے اس سے محبت ہے
کہ تجھے اس سے محبت ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






