کیا کریں جاناں کہ اب تم سے محبت ہے تو ہے
Poet: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی By: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی, houstonکیا کریں جاناں کہ اب تم سے محبت ہے تو ہے
آپ کی آنکھ میں یہ ایک حماقت ہے تو ہے
نوک پرجوتے کی ، ہاتھوں کی لکیریں ساری
آپ کے ہاتھ میں مرنا مری قسمت ہے تو ہے
ہم نے ہر دور میں انسان کا حق مانگا ہے
حاکمے وقت کی نظروں میں بغاوت ہے تو ہے
ہے یہ بےپایاں کرم رب کی نوازش کا سبب
میرے آقا سے مرے خون کی نسبت ہے تو ہے
کلمہ ء حق ہے مرے خون میں، خو میں شامل
اب اگر میرے مقدر میں شہادت ہے تو ہے
یاوہ کوئی نہیں تنقیص نہ تحریص کوئی
پھر بھی تقدیر میں گر عزت و شہرت ہے تو ہے
اس کو تقدیر و مشیت کے حوالے کردو
گونا آنکھوں میں کوئی آپکے حسرت ہے تو ہے
گھر جو دشمن بھی چلا آئے تو عزت دیں گے
میرے اجداد کی یہ اعلی روایت ہے تو ہے
دین مفتی ہے فقط مہرو وفا کی باتیں
یہ گلے شکوے اگر آپکی فطرت ہے تو ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






