میرا ہر شعر مرا قطرہ ء خوں ہے یوں ہے

Poet: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی By: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی, houston

دست فرہاد ہے تیشہ ہے ستوں ہے یوں ہے
سر چڑھا عشق کا درپردہ فسوں ہے یوں ہے

مجھ کو تفصیل بتانے کی ضرورت ہی نہیں
مان جو لی ہے تری بات کہ یوں ہے یوں ہے

کس طرح کہدوں تقابل ہے چمن کا تجھ سے
تیری خوشبو توکہیں ان سے فزوں ہے یوں ہے

میں خرد کے بھی شکنجے سے نکل آیا ہوں
میری منزل کہیں بالائے جَنوں ہے یوں ہے

عشق کے شاہ کی آمد کا فسوں ہے شاید
حسن کی دیوی کا سر پھر سے نگوں ہے یوں ہے

یہ کسی ناگہاں طوفاں کی خبر ہے شاید
یہ جو دریا میں قیامت کا سکوں ہے یوں ہے

روح سے جسم کا ادغام نہیں ہے ممکن
وصل کی شب بھی اگر ہاں ہے نہ ہوں ہے یوں ہے

صرف تخلیق نہیں جان و جگر ہے جاناں
میرا ہر شعر مرا قطرہ ء خوں ہے یوں ہے

اصل اک ذات تھی اللہ کو دکھانی یارو
یہ ہی تو معاملہ ء کن فیکوں ہے یوں ہے

Rate it:
Views: 278
09 Mar, 2023
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL