کیا ہوتا اگر جو قلم نہیں ہوتا
Poet: ایمان شہزاد By: ایمان شہزاد, Islamabadشاعری بھی بالکل عورت کی طرح ہوتی ہے
نہ.....نرم و نازک نہیں ...بلکہ
اسے بھی عورت کی طرح
حوسی نظروں سے خوف آتا ہے
جب وہ اپنے شاعر کے سائبان سے نکل کر
بازارِ فروشِ سخن میں جا بیٹھتی ہے
تو ہر پڑھنے والے کی آہٹ سن کر
وہ ذرا سی سہم جاتی ہے ...اور سوچتی ہے
کہ کیا یہ میرے قابل بھی ہے؟
کہیں یہ مجھے پڑھ کر
اتنی ہی محبت سے دیکھے گا؟
جیسے لکھنے والے نے دیکھا تھا
کیا یہ میرے مصروں کی حکمت پر
بڑے دھیان سے غور و فکر کرے گا؟
یا اوپر اوپر سے پڑھ کر
کوئی بھی نازیبا فتوی لگا کر
میری عصمت کو داغدار کر دے گا؟
ہاں.....یہ پڑھنے والے کا حق ہے کہ
وہ جیسا بھی سمجھے
لیکن ....... شاعری بھی بچنا چاہتی ہے
بری نظروں سے.....سچی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






