کیسے بھول جاؤں وہ زندگی ہماری ہے
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiکیسے بھول جاؤں وہ زندگی ہماری ہے
لاجواب دنیا میں دوستی ہماری ہے
بدگمان ہوتا ہے دیکھ کر محبت وہ
چل رہی ابھی تک کیوں عاشقی ہماری ہے
کیسے بھول جاؤں یادیں وہ سب پرانی میں
آخری وہ بچپن کی دل لگی ہماری ہے
میرے بارے میں سب کچھ جانتا ہے کیا ہوں میں
بے وفا نہیں ہوں میں دلبری ہماری ہے
بھولتے نہیں دل میں رہنے ہیں ابھی تک وہ
مل نہیں ابھی پائے بے بسی ہماری ہے
میری وال پر دیکھو گے یقین آئے گا
عشق سے بھری ہوئی شاعری ہماری ہے
سلسلے محبت کے ختم ہو نہیں پائے
چل رہی ابھی تک وہ دوستی ہماری ہے
روز آتے ہیں وہ شہزاد اب خیالوں میں
بھولے جو نہیں ہیں دیوانگی ہماری ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






