کیسے چاندی زلفاں اتری بھید کھلا ہے آج
Poet: Muhammad Sabir By: Muhammad Sabir, Lahoreکیسے چاندی زلفاں اتری بھید کھلا ہے آج
جیسے بدلہ روپ کسی کا بدلہ ناری داج
تتلی رنگوں والے جوبن پل دو پل میں مات
پل دو پل کی راج کماری پل دو پل کا راج
سانسوں میں رفتار نہیں تو کاہے کی ملہار
بن پھونکوں کے باجا ناہی نہ باجے کا باج
جل جاتے ہیں بک جاتے ہیں ایسے اونے پونے
جن کو ڈالے کونے ماہی ہوتے دیمک کھاج
میں نے شربت بھانج پیا ہے کیا پانی میں آگ
کیا کاجل کی لاگ سہیلی کیا ساجے کا ساج
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







