گرچہ پہلے مچل گئے ہوں گے
Poet: ناظم زرسنر By: Nazim ZarSinner, Pakpattansharگرچہ پہلے مچل گئے ہوں گے
چوٹ کھا کر سنبھل گئے ہوں گے
خط مرے اُس نے جب جلائے ہوں گے
ہاتھ اُس کے بھی جل گئے ہوں گے
کیوں کہ آدم کی پشت میں سے ہیں
ہم بھی یا رب! پھسل گئے ہوں گے
اُن کتابوں کو کھا گئی دیمک
پھول بھی ساتھ گل گئے ہوں گے
بعد مُدَّت کے واپسی ہو گی
کتنے چہرے بدل گئے ہوں گے!
چلتے چلتے تمھارے رستے میں
پاؤں میرے ہو شل گئے ہوں گے
کون سی بات یاد رہتی ہے؟
اُن سے ملنے بھی کل گئے ہوں گے!
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






