گلابوں سے مہکی لڑی ہو گئی ہوں
Poet: Mah Rukh Zaidi By: Shazia Hafeez, Attockگلابوں سے مہکی لڑی ہو گئی ہوں
محبت کی پہلی کڑی ہو گئی ہوں
مجھے تو نے ایسی نگاہوں سے دیکھا
کہ میں ایک پل میں بڑی ہو گئی ہوں
سر شام آنے کا ہے اس کا وعدہ
میں صبح سے در پر کھڑی ہو گئی ہوں
نہ چھڑوا سکو گے کبھی ہاتھ اپنا
محبت بھری ہتھکڑی ہو گئی ہوں
بہت دور ہے مجھ سے خوشیوں کا موسم
مسلسل غموں کی جھڑی ہو گئی ہوں
جدا کر نا پائے گا کوئی ماہ رخ
وہ خوشبو ہے میں پنکھڑی ہو گئی ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







