گلشن میرے پیار کا
Poet: Hafeez Javed By: Shazia Hafeez, Attockگلشن ہے میرے پیار کا، جس کا میں بادشاہ
رہتا ہوں ٹھاٹھ سے، جیسے رہتے ہیں شہنشاہ
میرے گلشن کے مالی، کرتی ہیں اس کی رکھوالی
میرے چمن میں پیار سے کوئی نہیں ہے کھالی
اس کے آنگن میں ہے سب کو بہت سرور و کیف
پھول ہیں اس باغ کے، فیصل، ثوبیہ اور سیف
دعا ہے رب سے، میرے پھول سدا کھلے رہیں
نہ ہوں کبھی جدا، آپس میں سب مل کے رہیں
میرے مولا! جوبن ان کا مجھ کو د کھانا
دین و دنیا کی رسوائی سے سب کو بچانا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







