گلہ کیا کرتے ہو ہمارے نہ ملنے کا
Poet: دانش ارشاد By: Danish irshad, Gojraگلہ کیا کرتے ہو ہمارے نہ ملنے کا
ہم آوارہ لوگ ہیں ہمارا کوئی ٹھکانہ نہیں
تیری یہ بات بھی جھوٹ ہی نکلی
کہ میرے سوا تیرا کوئی دیوانہ نہیں
ہم سچے عاشق ہیں تیرے تجھے کیا خبر
غلطی سے بھی تو ہمیں آزمانا نہیں
اچھا نہیں لگا ملنے کا یہ انداز تیرا
چھوڑ کے جانے کا یہ تو کوئی بہانا نہیں
چاہے بھلا دینا محبت کی سب یادیں
پر اک احسان کرنا، ہمیں تو بھلانا نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






