گل و خوشبو اور چمن کا افسانہ لکھ دوں
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Ulfat, Rawalpindiگل و خوشبو اور چمن کا افسانہ لکھ دوں
تیری صورت کا عکس سارا زمانہ لکھ دوں
لکھنا چاہوں تو صنم سے حرم تک لکھ دوں
مجھ کو ڈر ہے کہ حقیقت کو نہ افسانہ لکھ دوں
ہیرے موتی کی سمندر میں حقیقت لکھ دوں
جو تیری آنکھوں کا انمول خزانہ لکھ دوں
شب وصل بھی اس سناٹے کی اسیر ہوئی
دل نے چاہا تیری زلف کو مرگ بہانہ لکھ دوں
تم ہی منکر ہو جو عداوت میں بٹے ہو لوگوں
ایک آدم سے بھلا کس کس کو بیگانہ لکھ دوں
تیرے بعد میرے در کی یہ حالت ہو گئی
بارہا چاہا اسے میں نے ویرانہ لکھ دوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






