گیت
Poet: Tahir By: Dr Khizar Hayat Tahir, Rawalpindi نینن میں برسات لگی ہے منوا جلتا جائے
تجھ بن ساجن اس نگری میں اور مجھے کیا بھائے
برکھا رُت میں کالی بدریا پگ پگ جل برسائے
برہا کا مارا ہے طاہر اُس سنگ روتا جائے
نیل گگن میں سُندر چندا تیری یاد دلائے
سکھیوں کے جھُرمٹ میں جیسا مکھ مسکائے
ساون کی پُروائی میں جب باس کسی کی آئے
کو کو بولے مست کوئیلیا من مورا لہرائے
پریم نگر میں روپ نگر کی رانی سجنو آئی
جس کو ہو منوا پہ قابو وُہ درشن کو جائے
دُکھ سکھ میت بنے انساں کے ڈھلتی چھاؤں جیسے
سُکھ کی گھڑیاں بیت چلیں کیوں پاگل نیر بہائے
اُتر دکھن پر رب پچھم نگری نگری ڈھونڈھوں
پریتم مُکھ دکھلا دے اپنا کیوں مُجھ کو تڑپائے
نینن میں کجرے کی دھاری لاگے مست کٹاری
گھائل من اُس کا ہو جائے جس پر بان چلائے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






