ہاتھ پر ہاتھ رکھو آؤ کریں یہ وعدہ
Poet: ورد بزمی By: ورد بزمی, اسلام آبادہم ابھرتے ہوئے سورج کی جواں کرنیں ہیں
ہم ابلتے ہوئے چشمے کی جواں موجیں ہیں
ہم امڈتے ہوئے دریا کی جواں لہریں ہیں
ہم بدلتی ہوئی دنیا کی جواں سوچیں ہیں
ہاتھ پر ہاتھ رکھو آؤ کریں یہ وعدہ
ظلمتِ شب کو اجالوں سے سجادیں گے ہم
خوابِ غفلت میں ڈھلی فکر جگا دیں گے ہم
لوٹتے ہیں جو اندھیروں میں غریبوں کے جہاں
ان کے چہروں سے نقاب آج اٹھا دیں گے ہم
ہاتھ پر ہاتھ رکھو آؤ کریں یہ وعدہ
ہم بدل دیں گے تعصب کی نمائش کا نظام
ہم مٹا دیں گے فرنگی کی نوازش کا نظام
ختم کرنا ہے ہمیں پاک وطن سے مل کر
اقربا پروری رشوت کا سفارش کا نظام
ہاتھ پر ہاتھ رکھو آؤ کریں یہ وعدہ
دیس میں کوئی بھی اب طلم نہ ہونے دیں گے
کسی مظلوم کو چھپ چھپ کے نہ رونے دیں گے
ہم غریبوں کے بدن پر کسی ظالم کو کبھی
کوئی خنجر کوئی نشتر نہ چبھونے دیں گے
ہاتھ پر ہاتھ رکھو آؤ کریں یہ وعدہ
ظلم سہنے کی روایات کو ہم توڑیں گے
ہم ہر اک دور میں ہر دار پہ سچ بولیں گے
ہم اسولوں پہ کریں گے نہ کبھی سمجھوتا
ہم صداقت پہکبھی حرف نہ آنے دیں گے
ہاتھ پر ہاتھ رکھو آؤ کریں یہ وعدہ
اپنی دھرتی سے جہالت کو مٹادیں گے ہم
بغض کو بیر کو نفرت کو مٹا دیں گے ہم
شرحِ اموات مزید اور نہ بڑھنے دیں گے
صفحہ ء دہر سے غربت کو مٹا دیں گے ہم
ہاتھ پر ہاتھ رکھو آؤ کریں یہ وعدہ
کوہِ تحقیق کی چوٹی پہ ہمیں چڑھنا ہے
طالبِ علم ہیں ہر وقت ہمیں پڑھنا ہے
کام اور کام تواتر سے تسلسل سے سدا
ہمیں ان چاند ستاروں کی طرف بڑھنا ہے
ہاتھ پر ہاتھ رکھو آؤ کریں یہ وعدہ
فخر اپنا ہے وطن اور یہی ہے پہچان
یاد ہے قائدِ اعظم کا ہمیں یہ فرمان
حضرت اقبال نے دیکھا تھا کبھی جس کا خواب
ہم حقیقت میں بنائیں گے وہی پاکستان
ہاتھ پر ہاتھ رکھو آؤ کریں یہ وعدہ
ربِ کعبہ ہے ہر اک موڑ پہ یاور اپنا
شاہِ لولاک محمد ہے پیمبر اپنا
منزل آسان ہے واضح ہے یقینی ہے وَرد
روزِ اول ہی سی قرآن ہے رہبر اپنا
ہاتھ پر ہاتھ رکھو آؤ کریں یہ وعدہ
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






