ہجر کے اضطراب کے قصے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا یاد آتی ہیں یار تھے ہم تو
پیاری پیاری وہ پیار تھے ہم تو
ہجر کے اضطراب کے قصے
وصل کے انتظار تھے ہم تو
تبصرے مشورے سہیلی کے
اک حسیں رازدار تھے ہم تو
رخ پہ گرنا کبھی سمٹ جانا
گیسوئے مشک بار تھے ہم تو
زیرلب مسکراہٹیں سن کر
تیکھے نقش و نگار تھے ہم تو
ٹال جانا زمانے کے قصے
تلخیوں سے فرار تھے ہم تو
پھر سے لے بیٹھے دیکھو آج وشمہ
دل کے اجڑے دہار تھے ہم تو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






