ہر ایک شخص سے میرا پتا جو کرتا ہے
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiہر ایک شخص سے میرا پتا جو کرتا ہے
مرا خیال ہے اب مجھ پہ وہ بھی مرتا ہے
گرجتے بادلوں میں حال اس کا کیا ہو گا
سنا ہے آج بھی وہ آندھیوں سے ڈرتا ہے
نظر تو اس کی مری طاق میں ہی رہتی ہے
وہ اب کے جب بھی مرے شہر سے گزرتا ہے
نجانے گرتے ہیں آنسو کیوں اس کی آنکھوں سے
وہ جب بھی آئینے کے سامنے نکھرتا ہے
اسے خبر ہی کہاں قبر میں پڑا ہے وہ
وہ اب کے جس کلۓ رات دن سنورتا ہے
میں کاش پہلے سے کچھ عرصہ مر گیا ہوتا
سنا ہے بعد مری مرگ مجھ پہ مرتا ہے
مزاج چاند نے باقرؔ ہے بدلا میرے بعد
شفق کی جھیل میں اب چاند بھی اترتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






