وہ جو کل تک وفا کا پیکر تھا

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachi

وہ جو کل تک وفا کا پیکر تھا
آج کیوں اس کے ہاتھ پتھر تھا

اس لئے اس پہ آن دل ٹھہرا
وہ بھرے شہر سے جو ہٹ کر تھا

سر پہ باندھے کفن میں چل نکلا
سامنے گو عدو کا لشکر تھا

ترس پانی تجھے نہیں آیا
ہاۓ کتنا پیاسہ اصغر تھا

غمزدہ مجھ کو روتے ہیں یونہی
غم کے ماروں کا میں قلندر تھا

یاد آۓ تو خوں رلاۓ مجھے
اس سے بچھڑن کا وہ جو منظر تھا

میرا بن کر جو ڈس گیا مجھ کو
آدمی تھا یا کوئی اجگر تھا

لمس اس کا بتا گیا مجھ کو
پھول چہرہ بھی کتنا پتھر تھا

مجھ سے بڑھ کر ہیں درد کس کو ملے
کون مجھ سے بڑا سکندر تھا

چھوڑ کر وہ گیا مجھے جس دن
وہ بھی دن میرے لیئے محشر تھا

کوئی بھی میرا بن نہیں پایا
عیب ایسا تو میرے اندر تھا

آج کل کیوں نظر نہیں آتا
وہ جو مل جاتا مجھ کو اکثر تھا

اجنبی ہوں میں آج اس کلۓ
کل تلک جس کا میں ہی دلبر تھا

پیار بن کر جو آج ابھرا ہے
وہ تو صدیوں سے دل کے اندر تھا

درد میں یوں بھی خوش ہوں میں باقر
درد سہنا مرا مقدر تھا

Rate it:
Views: 479
13 May, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL