ہر گام بدلتے رہے منظر مرے آگے

Poet: کاشف حسین غائر By: Abdul Rehman, Islamabad

ہر گام بدلتے رہے منظر مرے آگے
چلتا ہی رہا کوئی برابر مرے آگے

کیا خاک مری خاک میں امکان ہو پیدا
ناپید ہیں موجود و میسر مرے آگے

یوں دیکھنے والوں کو نظر آتا ہوں پیچھے
رہتا ہے مسافت میں مرا گھر مرے آگے

رکھتی ہے عجب پاس مری تشنہ لبی کا
سو موج اٹھاتی ہی نہیں سر مرے آگے

ہنستا ہی رہا میں در و دیوار پہ اپنے
روتا ہی رہا میرا مقدر مرے آگے

کل رات جگاتی رہی اک خواب کی دوری
اور نیند بچھاتی رہی بستر مرے آگے

واقف ہی نہیں کوئی ان آنکھوں کی روش سے
کم کم جو کھلا کرتی ہیں اکثر مرے آگے

دیکھے ہی نہیں میں نے کبھی آنکھ میں آنسو
پہنا ہی نہیں اس نے یہ زیور مرے آگے

غائرؔ میں کئی روز سے خاموش ہوں ایسا
گویا نظر آتے ہیں یہ پتھر مرے آگے

Rate it:
Views: 473
20 Aug, 2021
More Sad Poetry