ہمارے دل میں ہی اک نا خدا تلاش کریں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاکسی کشش کے کیا سلسلہ تلاش کریں
ہمیں بھی آخرش اک دائرہ تلاش کریں
ابھی سے اچھا ہوا رات سو گیا ورنہ
کبھی تو ختم سفر رت جگا تلاش کریں
برہنہ تن بڑی گزری تھی زندگی اپنی
لباس ہم کو ہی ایسا جزا تلاش کریں
ہم اپنا دیدۂ بینا پہن کے نکلے تھے
سڑک کے بیچ کوئی حادثہ تلاش کریں
ہمارے پاؤں سے لپٹی ہوئی قیامت تھی
قدم قدم پہ کسی کی دعا تلاش کریں
ہم اپنے سامنے ہر لمحہ مرتے رہتے تھے
ہمارے دل میں ہی اک نا خدا تلاش کریں
تمام رات بلاتا رہا ہے اک تارہ
افق کے پار کوئی معجزہ تلاش کریں
کسی کے سامنے اٹھتی نظر تو بہہ نکلا
ہماری آنکھ میں کیا کیا ادا تلاش کریں
حصار شہر سے باہر نکل ہی آئے ہیں
کبھی ہمیں بھی یہ اک راستہ تلاش کریں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






