ہم جی رہےہیں دیواروں سے سر پھوڑ کر
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamتم تو چل دیئے ہمارا نازک سادل توڑ کر
ہم جی رہے ہیں دیواروں سےسرپھوڑ کر
اب تو ان میں آنسو بھی نہیں رہے
روتے رہتے ہیں آنکھوں کو نچوڑ کر
ہم تیرےغموں سے دوربھاگتےہیں
وہ پھر بھی پکڑ لیتےہیں ہمیں دوڑکر
اب ہم سے اور راہ و رسم نہ بڑھائیے
ابھی فارغ ہوئے ہیں دل کہ ٹکڑےجوڑکر
ہم نے تو اپنی زندگی تمہارےنام کردی
تو بھی چلی آ اپنا سب کچھ چھوڑ کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








