ہم غریبوں کا یہ ارمان ہوا کرتا ہے
Poet: dr fakhar abbas By: dr fakhar abbas, Lahoreہم غریبوں کا یہ ارمان ہوا کرتا ہے
صرف مرنے پہ ہی اعلان ہوا کرتا ہے
ہم سخنور ہیں عطا کرتے ہیں لعل و گوہر
ہم میں ہر شخص ہی سلطان ہوا کرتا ہے
ہم نہیں چیز کو ئی روک کے رکھنے والے
وقت جب ہم پہ مہربان ہوا کرتا ہے
صرف رونے سے نہیں ہوتی بیاں حالت _ دل
خشک آ نکھوں میں بھی طوفان ہوا کرتا ہے
لوگ آتے ہیں چلے جاتے ہیں رکنے والا
ایک ہی شخص مری جان ہوا کرتا ہے
ساتھ چلنے کی قسم کھا ئی ہے کیسے مانوں
وہ جو ملنے سے پریشان ہوا کرتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






