ہم میں کچھ کمی ہے یا پھر تُو بدل گیا ہے کیا ؟
Poet: Muhammad Imran Khan - Emron Mano By: Muhammad Imran Khan, Peshawarتیرے نام سے راحت ملی، تُجھ سے مُجھے چاہت ملی
دل میں تیرے پیار کی کلی، تیرے ملنے کے بعد کھلی
تُو ہی مُجھ کو پیارا ہے، تیرے پیار پہ جیون ہارا ہے
اِس بدن پہ، روح پہ، زُلفوں پہ، اب حق صرف تمھارا ہے
میں تیرے لئے ہی جیتی ہوں، میں تیرے لیے مر سکتی ہوں
مُجھ سے کہو اے دلرُبا کیا تیرے لیے کر سکتی ہوں
دل میں تیری باتیں ہیں، فرقت کی لمبی راتیں ہیں
مُجھے پل پل ڈستا رہتا ہے، تیری یادیں بہت ستاتی ہیں
کیوں تُو مُجھ سے یوں دُور ہوا، کیوں ملنے سے مجبور ہوا
کیا برسوں کے بعد تمھارا ملنے کا دستور ہُوا
دل اپنا کس کو دیکھاؤں، زخم اپنے کس کو بتاؤں
سینے سے کس کے لگ کر، زخم اپنے دل کے بتاؤں
ہم سے ہوئی خطا ہے کیا؟ ہم نے کی جفا ہے کیا ؟
ہم میں کچھ کمی ہے یا پھر تُو بدل گیا ہے کیا ؟
وہ انتہا کدھر گئی، دیوانگی کدھر گئی
وہ اِک میرے دیدار کو، بیتابیئِ دل کدھر گئی
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






