ہم پیئیں گے وہ ہمیں پلائیں گے ساقی
Poet: درشہوار By: Suhaira Hassan, Attockہم پیئیں گے وہ ہمیں پلائیں گے ساقی
یوں ہی غم اپنے بھلائیں گے ساقی
رہے گی پیاس باقی توڑ دیں گے جام
گر وہ ہمیں چھوڑ جائیں گے ساقی
بھول جائیں گے رشتہ اپنا مئے کے ساتھ
مئے کدے کو ہی بھول جائیں گے ساقی
چشم تر کا نشہ اترے گا ہوش میں آئیں گے
بال نوچیں گے خود گھاؤ کھائیں گے ساقی
لبادہ اوڑھ لیا ہے شرافت کا آؤ ملو ہم سے
وگرنہ پھر سے بہک بہک جائیں گے ساقی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






