ہنسی کس نے دی ہے ؟ رلایا ہے کس نے ؟
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, Hafizabadہنسی کس نے دی ہے ؟ رلایا ہے کس نے ؟
دیا کس نے جیون ؟ مٹایا ہے کس نے ؟
ترا آنا تجھ کو بھلایا ہے کس نے ؟
ترا جانا تجھ سے چھپایا ہے کس نے ؟
ترا جسم مٹی کا ویران گھر تھا
اسے آتما سے بسایا ہے کس نے ؟
ترے پاس جتنا بھی علم و ہنر ہے
تجھے وہ قلم سے سکھایا ہے کس نے ؟
بصارت کی نعمت عطا کر کے تجھ کو
تجھے حسنِ عالم دکھایا ہے کس نے ؟
تجھے نیند کی وادیوں میں سلا کر
مزا موت جیسا چکھایا ہے کس نے ؟
اسی خاک سے آدمی کو بنا کر
اسی خاک میں پھر ملایا ہے کس نے ؟
یہ ارض و سما کا جو ہے بوجھ سارا
ذرا سوچ اس کو اٹھایا ہے کس نے ؟
ازل سے ابد کی طرف جو رواں ہے
وہ اِک سلسلہ سا چلایا ہے کس نے ؟
پکھیرو کو نازک سے پنکھوں کے بل پر
فضاؤں میں اونچا اڑایا ہے کس نے
گھٹاؤں کو ہے کس نگر لے کے جانا
ہواؤں کو رستہ بتایا ہے کس نے ؟
فلک میں کڑکتی ہوئی بجلیوں کو
گھنے بادلوں سے بنایا ہے کس نے ؟
سمندر کے پانی سے برسا کے بارش
بیاباں میں سبزہ اگایا ہے کس نے ؟
جہاں سے برستے ہیں اولے زمیں پر
وہ پربت فضا میں بنایا ہے کس نے ؟
ہرے پیڑ سوکھی زمیں سے اگا کر
پھر آتش کو ان میں چھپایا ہے کس نے ؟
تزلزل سے دھرتی بچانے کی خاطر
پہاڑوں کو میخیں بنایا ہے کس نے ؟
کئی مِیل گہرے سمندر میں آخر
سفینہ جَبَل سا چلایا ہے کس نے ؟
یہ امبر جو پہلے دھواں ہی دھواں تھا
ستاروں سے سارا سجایا ہے کس نے ؟
اک مسکراہٹ عمر بھر کی میری عادت کر گئی۔
تیرا چہرہ چاند سے بڑھ کر لگا ہر موڑ پر،
تیری آنکھوں کی چمک ہر روشنی سے بڑھ گئی۔
تیری زلفوں کی گھٹا جب میرے دل پر چھا گئی،
پھول کی خوشبو بھی اپنی خوشبو بھول سی گئی۔
تو حسیں ہے، اس میں کوئی دوسرا مطلب نہیں،
پر تجھے اپنے ہی حسن پر اتنی انا زیب نہیں۔
کبھی میری بے قراری کی خبر بھی تو لیا کر،
صرف اپنی ہی ادا پر ہر گھڑی نازاں نہ رہ۔
میں نے ہر دھڑکن میں بس تیرا ہی نام لکھ دیا،
تو نے میرے عشق کو شاید تماشا جان لیا۔
یہ بھی سچ ہے، تُو دعا ہے میری قسمت کے لیے،
یہ بھی سچ ہے، تُو نے اکثر دل مرا آزردہ کیا۔
اک تبسم دے کے پھر نظریں چرا لینا تری،
قتل بھی کرتا ہے اور الزام بھی لیتا نہیں۔
میں اگر خاموش ہوں تو یہ نہ سمجھ بے وفا،
دل کی دنیا میں محبت شور کم کرتی نہیں۔
آج بھی ہر دعا میں تیرا ہی ذکر آتا ہے،
سحرؔ عشق سچا ہو تو پھر گلہ بھی محبت بن جاتا ہے۔
نیند سے مجھ کو اٹھایا اور بس
تپتے صحرا اور جلتی دھوپ میں
میں رہا اور میرا سایہ اور بس
روزگارِ تلخ نے فرصت نہ دی
زندگی نے غم کمایا اور بس
گھر کی خاطر عمر بھر لڑتا رہا
اپنا ہر ارماں گنوایا اور بس
مّے کده کا بس یہی معمول ہے
ساقی آیا جام لایا اور بس
ہم نے دنیا سے وفا مانگی مگر
ہر کسی نے دل دکھایا اور بس
نفرتوں کی آگ جب بھڑکی تو پھر
اس نے اُس کا گھر جلایا اور بس
تیری خوشبو تھی ہوا کے دوش پر
دل نے تجھ کو پاس پایا اور بس
میں اگر ٹوٹا تو ماں نے پیار سے
مجھ کو سینے سے لگایا اور بس
ماں کے قدموں میں سکوں ایسا ملا
دل نے ہر غم کو بھلایا اور بس
ہر شام کو منان کا معمول ہے
شعر لکھا شعر سنایا اور بس
تڑپ رہیں ہیں ہم اور ترساؤ تم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
آنکھوں میں ہمارے آنسوں ہے غم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بینا نظرانداز کرنا کرو تم ختم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
بانہوں میں جو تم ہماری آؤ نہیں کیسے بھلا ہم جییے تم بن
دور تم سے ہم رہ نہ سکیں جانم . یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں
کسی اور کے ساتھ کیسے دیکھیں تمھیں نہ ستاؤ اس قدر ہمیں
نہ رکھ سکو جو تم وفا کا بھرم یہ ظلم صنم ہم سہہ نہ سکیں.
کیا کہوں کیسے کچھ کہا ہی نہیں جائے
دل دیوانہ سا ہوا جائے
بینا چاہے ہی چاہے تمھیں جائے
تم نہ سمجھو ہمیں نہ ہمارے پیار کو
کوئی دیکھے تمھیں ہمیں اچھا نہیں لگے کیو
کیا گزرے ہم پہ ہم کیسے سنبھلے . ناں جانوں ناں تم
ہم کیا کیا کریں خود کو سمجھانے کو






