ہوس میں رہ کے بے حواس پھر رہے ہیں آج
Poet: محمد احمد شاد By: محمد احمد شاد, Pakpattansharہوس میں رہ کے بے حواس پِھر رہے ہیں آج
ترے نگر میں ہم اُداس پِھر رہے ہیں آج
ہیں فاصلے بھی کافی، ہم میں اور تم میں دوست
اِسی سبب تو تیرے پاس پِھر رہے ہیں آج
اے دوستو! اے دشمنو! یہ پوچھنا اُسے
وہ زندگی سے کیوں نراس پِھر رہے ہیں آج؟
وہ چاہتوں کی آڑ میں بنے ہیں اجنبی
وہاں پہ ہم بھی روشناس پِھر رہے ہیں آج
جو شعر ہم کو خود سمجھ نہیں ہے آ سکا
وہ شعر لے کے ہم قیاس، پِھر رہے ہیں آج
کبھی بھی دل کے جو قریں نہیں رہے ہیں شاؔد
وہ میرے دل کے آس پاس پِھر رہے ہیں آج
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






