تمھیں بہار کی کلیاں جواں پکارتی ہیں
Poet: عامر ثقلین By: عامر ثقلین , Arifwalaتمھیں بہار کی کلیاں جواں پکارتی ہیں
کہتی مرحبا! سب تتلیاں پکارتی ہیں
نہ بوسہ پیار کا عنبر فشاں لبوں سے لو
یہ میری سانسوں کی خاموشیاں پکارتی ہیں
حسین راتیں ہیں دیدار کو بنیں تیرے
قمر، نجوم کی کرنیں رواں پکارتی ہیں
نہ آنا سامنے شیشے کے ہو کے تم ملبوس
لٹکتی زلف کی یہ کنڈلیاں پکارتی ہیں
زمین و چرخ بہت گرم جوشی میں ہیں آج
گھٹاؤں سے نکلتی بجلیاں پکارتی ہیں
پسند آئیں ہیں منہدی کو اِس قدر، ضد سے
نہیں ہیں چھوڑنی، تلیاں اے جاں! پکارتی ہیں
مراجعت تری اک پل کو بھی گوارا نہیں
یہ نیلی فام سی پریاں یہاں پکارتی ہیں
تری نگاہ کے ساحل پہ ہے ٹھہرتا دل
یہ بحرِ عشق کی سب کشتیاں پکارتی ہیں
سکون کا ہے ذریعہ تمھاری خاکِ قدم
گُلِ گلاب کی سب پتّیاں پکارتی ہیں
خفا نہ ہو کے جا عامؔر سے میرے پیارے دوست
تمام شہر کی گلیاں نہاں پکارتی ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






