تمھیں بہار کی کلیاں جواں پکارتی ہیں

Poet: عامر ثقلین By: عامر ثقلین , Arifwala

تمھیں بہار کی کلیاں جواں پکارتی ہیں
کہتی مرحبا! سب تتلیاں پکارتی ہیں

نہ بوسہ پیار کا عنبر فشاں لبوں سے لو
یہ میری سانسوں کی خاموشیاں پکارتی ہیں

حسین راتیں ہیں دیدار کو بنیں تیرے
قمر، نجوم کی کرنیں رواں پکارتی ہیں

نہ آنا سامنے شیشے کے ہو کے تم ملبوس
لٹکتی زلف کی یہ کنڈلیاں پکارتی ہیں

زمین و چرخ بہت گرم جوشی میں ہیں آج
گھٹاؤں سے نکلتی بجلیاں پکارتی ہیں

پسند آئیں ہیں منہدی کو اِس قدر، ضد سے
نہیں ہیں چھوڑنی، تلیاں اے جاں! پکارتی ہیں

مراجعت تری اک پل کو بھی گوارا نہیں
یہ نیلی فام سی پریاں یہاں پکارتی ہیں

تری نگاہ کے ساحل پہ ہے ٹھہرتا دل
یہ بحرِ عشق کی سب کشتیاں پکارتی ہیں

سکون کا ہے ذریعہ تمھاری خاکِ قدم
گُلِ گلاب کی سب پتّیاں پکارتی ہیں

خفا نہ ہو کے جا عامؔر سے میرے پیارے دوست
تمام شہر کی گلیاں نہاں پکارتی ہیں

Rate it:
Views: 898
10 Mar, 2022
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL