ہو جاتے ہیں ناراض سوالات کرو تو
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiہو جاتے ہیں ناراض سوالات کرو تو
اظہارِ محبت کی شروعات کر تو
ہم پر یہ تمھارا بہت احسان رہے گا
عجلت میں کسی روز ملاقات کرو تو
الزام نہیں آپ پہ آئے گا کبھی پھر
ہنس ہنس کے کسی سے نہ کبھی بات کرو تو
اللہ صلہ دے گا سنور جائے گی قسمت
بے لوث صداقت سے عنایات کرو تو
پل بھر میں سبھی ختم ہو جائیں گے یہ قضیے
تم جلوے دکھا کر وہ کمالات کرو تو
جیون یہ تمھارے بنا دشوار ہے جینا
ممنون رہوں وصل کے حالات کرو تو
گرویدہ تمھارا بھی ہو جائے گا زمانہ
شہزاد اگر حسن کی خیرات کرو تو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






