ہیر رانجھے کو مار کے ظالم مسکرائے کہ عشق ختم
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaہیر رانجھے کو مار کے ظالم مسکرائے کہ عشق ختم
مگر دیکھ لو ظلم والوں آج بھی کتنے رانجھے کتنی ہیریں ہیں
مارے نفرتوں کے ہٹھوڑے تُم نے عشق کو توڑنے کے لئے
ہٹھوڑوں کی مار سے دیکھو گرم کتنی عشق کی شمشیریں ہیں
برسوں پہلے کیا جرم آدم نے اور جنت سے نکل گیا یاد ہیں!
مگر نہ ختم ہوئی سزا اپنی آج بھی پیروں میں زنجیریں ہیں
لکھنے والوں لکھو کچھ ایسا کہ حسین تاریخ بن جائے
جس طرح برسوں پہلے ’غالب‘ تھے جن کی زندہ تحریریں ہیں
سوچ رہا ہوں سمجھ نہیں آتا میں کون ہوں؟ تُم کون ہو؟
میری آنکھوں کے دائرے میں کچھ دُھندلی سی تصویریں ہیں
واہ! خدایا جاؤں صدقے ترے دے کے لمبی زندگی انسان کو
زندگی کے راز میرے ہاتھوں میں ترچھی جو جو لکیریں ہیں
خدایا تری تُو ہی جانے سوچ نہالؔ بے سمجھ ترے بعیدوں سے
کل تک حکومت کرتا تھا اُسی بادشاہ کے گلے میں لیریں ہیں
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






