ہے وقتِ سحر ،یادِ خدا کیوں نہیں آتی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاہے وقتِ سحر ،یادِ خدا کیوں نہیں آتی
گھر گھر سے محبت کی صدا کیوں نہیں آتی
بدلے ہوئے موسم میں خزاؤں کی جھلک ہے
خواہش کے پرندے میں وفا کیوں نہیں آتی
اب آ کے کرے گا نہ کوئی خواب بسیرا
آنکھوں میں خزاؤں کی وبا کیوں نہیں آتی
یہ عشق کے شعلے مجھے جھلسا کے رہیں گے
امید کی برفیلی ہوا کیوں نہیں آتی
اس بام پہ کیوں پیار کی میں شمع جلاؤں
مہرِ رخ روشن کی ضیا کیوں نہیں آتی
مجبور ہوں، میں وقت سے ہاری بھی ہوئی ہوں
دلگیر ہوں پھر دل سے دعا کیوں نہیں آتی
یہ عشق کے شعلے بھی عجب چیز ہیں وشمہ
اس دل کو جفاؤں کی ادا کیوں نہیں آتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






