ہے کلیوں کے ہونٹوں پے رقصاں تبسّم
Poet: Gulzareen Pasha Zareen By: Gulzareen Pasha Zareen, Kallar Syedanہے کلیوں کے ہونٹوں پے رقصاں تبسّم
تو پھولوں نے ہے رنگ گلشن سجایا
یہ غنچوں میں ہر سو عجب سی مہک ہے
ارے دیکھو کوئی چمن میں ہے آیا
یہ آمد ہوئی آج کس کی چمن میں
یہ کس کے لئے بلبلیں گا رہی ہیں
کیوں مالن نے بدلے ہیں ہاتھوں کے کنگن
یہ مالی کی آنکھیں کیوں مسکا رہی ہیں
سحر کر دیا کس نے آ کر چمن میں
فضاوں پہ مستیاں چھا گئی ہیں
ہر اک جھوم کر شاخ لہرا رہی ہے
تو غنچوں پہ بھی رونقیں آ گئی ہیں
عجب رنگ میں یہ بہار آئ اب کے
کہ بھکرے ہیں ہر سو انوکھے فسانے
زریں پونچھ لے تو بھی پلکوں ک آنسوں
ہیں ٹوٹے سروں نے بھی چھیڑے ترانے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






