یادوں میں محبت کا نگر جائیں گے اک دن
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیایادوں میں محبت کا نگر جائیں گے اک دن
ممکن تو نہیں پھر بھی مگر جائیں گے اک دن
یہ سانس بھی اک بار ترے سانسوں سے مل کر
ساحل پہ وفاؤں کا سفر جائیں گے اک دن
ہو جائے جو اک روز یہ دنیا سے کنارا
ہم تم ہوں جہاں ایسا دہر جائیں گے اک دن
اک چاند جو اترا تھا کبھی دل کی زمیں پر
اس چاند کی دنیا میں ہی گھر جائیں گے اک دن
سن کر یہاں بیتاب ستاروں کی کہانی
ہم شام کے منظر میں سحرجائیں گے اک دن
اک بار توروٹھے ہوئے خالق کو منا لیں
بیکار دعاؤں میں اثر جائیں گے اک دن
بیٹھے ہیں یہ خاموش ، سمندر کو نگل کر
وشمہ جی سرابوں میں گہرجائیں گے اک دن
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






