یادوں کا درد دل میں ہے کچھ یوں ابھار پر
Poet: چندر واحد By: مصدق رفیق, Karachiیادوں کا درد دل میں ہے کچھ یوں ابھار پر
جیسے اگا ہوں ننھا سا پودا مزار پر
پلکوں پہ ان کی ٹھہرے ہیں آنسو کچھ اس طرح
آ بیٹھیں جیسے زخمی پرندے دوار پر
دکھ درد نئیں آہ مجھے پھر سے تھام لو
کہتے ہیں مجھ سے لوگ کہ میں ہوں اتار پر
اب چاہے جیسے کھیلے ہمارے نصیب سے
ہم نے تو چھوڑا فیصلہ پروردگار پر
ہوں گے نہیں فضاؤں میں واحدؔ کے گیت اب
سر رکھ کے سو گیا ہے وہ ٹوٹے ستار پر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






