یادیں
Poet: حسن محمود By: حسن محمود, Haripurمیرا تیری یادوں کے آغوش میں بسیرا ، مجھے اچھا لگتا ہے
بیگانہ ہوکہ خود سے تیری یادوں میں رہنا ، مجھے اچھا لگتا ہے
مے تو حلق سے اُتر کر سر پہ حاوی ہوتی ہے
تیرا يوں آنکھوں میں اُترنا ، دِل میں سما جانا اچھا لگتا ہے
یوں تو ہر کھانے کی شے کا ذائقہ اپنی جگہ خاص رہا
پر تیرے ہاتھوں سے بنا کچھ ، کھانا مجھے اچھا لگتا ہے
ہم اکثر ہی ہم کلام ہوتے ہیں آپس میں
پھر بھی کچھ تلک تیرے رو برو ہونا مجھے اچھا لگتا ہے
کاش کہ عنایت کرے توں ، ہمیں کچھ لمحہ اپنے قیمتی وقت کا
کیا کروں بس تیرے ساتھ وقت بتانہ مجھے اچھا لگتا ہے
تیرا ہم سفر ہو جانا نصیب کی بات ہے ، مقدر کی بات ہے
پر اِس محجزے کی امید کرنا مجھے اچھا لگتا ہے
کاش کہ پوچھے توں حسن سے اُسکی دلّی آرزو ، وہ کہہ دے
کہ میرا تیری دھڑکنوں میں بس جانا مجھے اچھا لگتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






