یاد
Poet: Dr Ch Tanweer Sarwar Shakar By: Dr Ch Tanweer Sarwar, Lahoreہے بھیجی مجھے تصویر بتاں تو نے
کیا کتنا میرے پیار کا زیاں تو نے
چمٹ گئے ہم دیکھتے ہی تصویر کو
کیا ہر رنگ تصویر میں نہاں تو نے
بن چکی تھی دل پہ تیری تصویر پہلے
نہ جانے پھر ملاقات کی کہاں تونے
بھیگ رہا ہوں آنسوئوں کی بارش میں
دیکھا ہو گا برستا آسمان تو نے
نہ جانے کیوں بھول گئے ہو تم مجھے
بسا لیا دل میں کوئی اور مہماں تو نے
دیکھا تھا پہلی ملاقات میں جب تمہیں
دل تو دل، لیے لی تھی جاں تو نے
جلتا ہے دل ہر روز تیری یاد میں
دیکھا نہ ہو گا کھبی ایسا سماں تو نے
چلا گیا چھوڑ کے تجھے وہ سدا شاکر
برباد کئے جس کے لئے دل کے ارمان تو نے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






