یوں دل کو ہر اک شخص پہ وارا نہیں کرتے
Poet: Fakhra Batool By: Shazia Hafeez, Attockیوں دل کو ہر اک شخص پہ وارا نہیں کرتے
آنکھوں میں ہر اک عکس اتارا نہیں کرتے
ہونی ہے تو اک بار ہی ہو جائے محبت
یہ بھول ہے ایسی کہ دوبارہ نہیں کرتے
اچھا ہوا میں نے ہی فقط دیکھا مگر یوں
محفل میں کسی کو بھی اشارہ نہیں کرتے
مل جائے سر راہ جو بچھڑا ہوا کوئی
چپ چاپ ہی تکتے ہیں پکارا نہیں کرتے
کیوں پیار کی بازی سے ہوا اس درجہ گریزاں
کہتے ہیں کہ بادل ہار کے ہارا نہیں کرتے
کاجل سے بھی اب کام کوئی لے نا سہیلی
یوں درد سے آنکھوں کو سنوارا نہیں کرتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







