یہ آنسوؤں سے بھری زندگی بھی کیا ہے مری(دوگانا)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanلڑکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ آنسؤں سے بھری زندگی بھی کیا ہے مری
سنو تو درد میں ڈوبی ہوئی صدا ہے مری
بچھڑ کے تم سے اندھیروں میں اب بھٹکتی ہوں
تمھارا نام میں لیتی ہوں اور سسکتی ہوں
جو ختم ہو نہ کبھی ایسی اک سزا ہے مری
یہ آنسوؤں سے بھری زندگی بھی کیا ہے مری
لڑکا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تم سے دور ہوں اب زندگی بھی کیا ہے مری
سنو تو درد میں ڈوبی ہوئی صدا ہے مری
تمھاری دور سے آتی صدائیں سنتا ہوں
تمام رات یہاں کروٹیں بدلتا ہوں
جدائی ختم ہو رب سے یہی دعا ہے مری
سنو تو درد میں ڈوبی ہوئی صدا ہے مری
لڑکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ آنسوؤں سے بھری زندگی بھی کیا ہے مری
سنو تو درد میں ڈوبی ہوئی صدا ہے مری
لڑکا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں تم سے دور ہوں اب زندگی بھی کیا ہے مری
سنو تو درد میں ڈوبی ہوئی صدا ہے مری
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






