سنگدل تھا اس سے پھر بھی محبت رہی مجھے
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanسنگدل تھا اس سے پھر بھی محبت رہی مجھے
خود کو تباہ کرکے بھی راحت رہی مجھے
دنیا ہے مال و زر کی محبت میں مبتلا
برعکس اس کے پیار کی حاجت رہی مجھے
بے وجہ ساری رات وہ سڑکوں پہ گھومنا
اک دور تھا عجیب سی وحشت رہی مجھے
آتا ہے یاد آج بھی شدت سے رات بھر
کب اس کو بھول جانے پہ قدرت رہی مجھے
فکر معاش فن کو مرے چاٹتی رہی
روٹی کی عمر بھر تو ضرورت رہی مجھے
میرے خلوص کا کبھی تجھ سے ملے صلہ
ناداں ہوں آج تک یہی حسرت رہی مجھے
رشتوں کو ٹوٹنے سے بچاتا رہا سدا
اس بات کی ہمیشہ مسرت رہی مجھے
شاید کہ روز حشر مرا کم حساب ہو
انساں سے پیار کرنے کی عادت رہی مجھے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






